Mujhay Tanha Nahin Kerna
21 April 2007
پھر وہی درد سا جاگا ہے رگوں میں میری
پھر وہی آہ سے نکلی ہے میرے سینے سے
پھر وہی خواب سے ٹوٹے ہیں میری آنکھوں میں
پھر وہی درد کی تلخی ہے مری باتوں میں
پھر وہی اشک سے ٹھہرے ہیں مری پلکوں پہ
پھر وہی رات سی جیون میں اتر آئی ہے
پھر وہی …
Mujhay Tanha Nahin Kerna
21 April 2007
میں شام یادوں کے جنگلوں میں گذارتا ہوں‘ کہ کچھ لکھوں گا یہ شہر سارا ہی سو چکا ہے میں جاگتا ہوں کہ کچھ لکھوں گا بہار رُت کے وہ خواب سارے جو میری پلکوں پہ آ سجے تھے! وہ خواب آنکھوں میں جل چکے ہیں میں جل رہا …
Mujhay Tanha Nahin Kerna
21 April 2007
عجب پاگل سی لڑکی ہے
مجھے ہر روز کہتی ہے
بتاؤ کچھ نیا لکھا؟
میں جب بھی اس سے کہتا ہوں،
کہ ہاں اک نظم لکھی ہے
مگر عنوان دینا ہے
بہت بے چین ہوتی ہے
وہ کہتی ہے،
سناؤ، میں اسے اچھا سا اک عنوان دیتی ہوں
وہ میری نظم سنتی ہے،
اور اس کی بولتی آنکھیں کسی مصرعہ، …
Mujhay Tanha Nahin Kerna
21 April 2007
میرے آنسو میرے اندر گرتے ہیں
جیسے دریا بیچ سمندر گرتے ہیں
تیری یادیں وہ طوفان اٹھاتی ہیں
اک اک کر کے سارے منظر گرتے ہیں
کتنی لہریں شعروں میں ڈھل جاتی ہیں
سوچ کے پانی میںجب پتھر گرتے ہیں
ہم نے ٹھوکر کھا کر چلنا سیکھا ہے
اور ہیں وہ جو ٹھوکر کھا کر گرتے ہیں
رونے …
Mujhay Tanha Nahin Kerna
30 December 2006
کومل جذبوں کا شاعر
محبت وہ لازوال جذبہ ہے کہ یہ جب کسی کو اپنے حصار میں لے لیتا ہے تو اس شخص کے نزدیک کائنات کے معنی ہی بدل جاتے ہیں۔ بصارت بصیرت میں کا ملبوس اوڑھ لیتی ہے اور قدم قدم پر ایک نیا جہان معنی آباد نظر …