Tumhain Khonay se Derta HooN
22 April 2007
کبھی قیاس‘ کبھی وہ گمان بدلے گا
میں جانتا تھا وہ اپنا بیان بدلے گا
مری آنکھوں میں بھی رہنا تجھے قبول نہیں
بتا کہ اور تو کتنے مکان بدلے گا
بس ایک آس پہ جیتا ہوں آج تک مولا
کبھی تو رنگ تیرا آسمان بدلے گا
یہ ممتحن‘ یہ نتیجہ بدل نہیں سکتا
اے دل فقط …
Tumhain Khonay se Derta HooN
22 April 2007
کسی کی یاد کی پرچھائیوں میں چھوڑ گیا
یہ کون پھر سے مجھے آندھیوں میں چھوڑ گیا
مہک رہا ہوں صبح و شام تیری یادوں میں
ترا وجود مجھے خوشبوؤں میں چھوڑ گیا
قدم قدم وہ مرے ساتھ ساتھ چلتا ہے
وہ اپنا آپ مرے راستوں میں چھوڑ گیا
تمام عمر مرے ساتھ وہ بھی جاگے …
Tumhain Khonay se Derta HooN
22 April 2007
اور کچھ نہیں بدلا
آج بعد مدت کے
میں نے اُس کو دیکھا ہے
وہ ذرا نہیں بدلی!
اب بھی اپنی آنکھوں میں
سو سوال رکھتی ہے
چھوٹی چھوٹی باتوں پہ
اب بھی کھل کے ہنستی ہے
اب بھی اُس کے لہجے میں
وہ ہی کھنکھناہٹ ہے
وہ ذرا نہیں بدلی!!
اب بھی اُس کی پلکوں کے
سائے گیلے رہتے ہیں
اب بھی …
Tumhain Khonay se Derta HooN
22 April 2007
کچھ اس طرح سے تمہارا خیال رکھا ہے
تمہارے واسطے خود کو سنبھال رکھا ہے
یوں لگ رہا ہے کہ بارش میں دھوپ نکلی ہے
خوشی میں اس طرح تم نے ملال رکھا ہے
کچھ اس لیے بھی مرا حرف حرف روشن ہے
ترے خیال نے دل کو اجال رکھا ہے
جو مجھ کو چھوڑ کے …
Tumhain Khonay se Derta HooN
22 April 2007
محبت کو بھلانا چاہیے تھا
مجھے جی کر دکھانا چاہیے تھا
…
Tumhain Khonay se Derta HooN
22 April 2007
میں خواب بہت دیکھتا ہوں
ایسے خواب!
جن میں کوئی دکھ‘ کوئی پریشانی نہیں ہوتی
جن میں وصل کے رستے ہجر کی وادی سے ہو کر نہیں گزرتے
جن میں محبت ہمیشہ ادھ کھلے پھول کی طرح خوبصورت
اور بچے کی مسکان کی طرح پاکیزہ ہوتی ہے
ایسے خواب!
جہاں ایک مسکراہٹ کی قیمت ہزار آنسو نہیں …
Tumhain Khonay se Derta HooN
22 April 2007
لاکھ چاہو بدل نہیں سکتیں
زندگی سے نکل نہیں سکتیں
عادتیں بھی عجیب ہوتی ہیں
Tumhain Khonay se Derta HooN
22 April 2007
کب ملے غیر کی پناہوں سے
درد ملتے ہیں آشناؤں سے
خشک پتوں کو ناچتے دیکھا
گیت سنتا رہا ہواؤں سے
مال و زر کی طلب نہیں ہے مجھے!
میری جھولی بھرو دعاؤں سے
اور کتنا چلو گے تم آخر!
آبلوں نے کہا یہ پاؤں سے
جن کو عادت ہے بے وفائی کی
آؤ جیتیں اُنہیں وفاؤں سے
آؤ اُن …
Tumhain Khonay se Derta HooN
22 April 2007
میں دوستی کے عجب موسموں میں رہتا ہوں
کبھی دعاؤں‘ کبھی سازشوں میں رہتا ہوں
جو تم ذرا سا بھی بدلے تو جان لے لو گے!
میں کچھ دنوں سے عجب واہموں میں رہتا ہوں
میں جس طرح سے کبھی دشمنوں میں رہتا تھا
اُسی طرح سے ابھی دوستوں میں رہتا ہوں
قدم قدم پہ ہیں …
Tumhain Khonay se Derta HooN
22 April 2007
چھپانا راز اس دل کے
اگر تم چھوڑ دو جاناں
تمہیں مجھ سے محبت ہے
اگر تم بول دو جاناں
تو جیون کے سفر میں
راستہ آسان ہو جائے
ہمارے پاس بھی جینے کا کچھ سامان ہو جائے
وگرنہ ہم‘
تمہارے دل کے دروازے کے باہر
آس میں بیٹھے رہیں گے
تم کبھی تو بند دروازے کو کھولو گی
مرے شانے …