Tumhain Khonay se Derta HooN
27 April 2007
میں شام یادوں کے جنگلوں میں گذارتا ہوں‘ کہ کچھ لکھوں گا
یہ شہر سارا ہی سو چکا ہے میں جاگتا ہوں کہ کچھ لکھوں گا
بہار رُت کے وہ خواب سارے جو میری پلکوں پہ آ سجے تھے!
وہ خواب آنکھوں میں جل چکے ہیں میں جل رہا ہوں کہ کچھ لکھوں …
Tumhain Khonay se Derta HooN
22 April 2007
تیرے میرے بیچ زمانہ پڑتا ہے
دل کو کتنی بار بتانا پڑتا ہے!
ٹھہر گئی ہے بات مقدر پر آ کر
خود کو یہ اکثر سمجھانا پڑتا ہے
سوچوں کو کب قید کوئی کر پایا ہے
لیکن خود کو تو سمجھانا پڑتا ہے
رستہ ہو دشوار یا راہی انجانے
اِس جیون کا ساتھ نبھانا پڑتا ہے
خاموشی کے …
Designed Shairi,Tumhain Khonay se Derta HooN
22 April 2007
مجھے تم کیا بتاؤ گی؟
کہ جب سے مجھ سے بچھڑی ہو
بہت بے چین رہتی ہو
مری باتیں ستاتی ہیں
مرے لفظوں کے جگنو!
ایک پل اوجھل نہیں ہوتے
مری نظمیں رُلاتی ہیں
مری آنکھیں جگاتی ہیں
مجھے تم کیا بتاؤ گی
کہ تم نے بارہا اُن اجنبی چہروں کے جنگل میں
مرے چہرے کو ڈھونڈا ہے
کسی مانوس لہجے …
Tumhain Khonay se Derta HooN
22 April 2007
کبھی قیاس‘ کبھی وہ گمان بدلے گا
میں جانتا تھا وہ اپنا بیان بدلے گا
مری آنکھوں میں بھی رہنا تجھے قبول نہیں
بتا کہ اور تو کتنے مکان بدلے گا
بس ایک آس پہ جیتا ہوں آج تک مولا
کبھی تو رنگ تیرا آسمان بدلے گا
یہ ممتحن‘ یہ نتیجہ بدل نہیں سکتا
اے دل فقط …
Tumhain Khonay se Derta HooN
22 April 2007
کسی کی یاد کی پرچھائیوں میں چھوڑ گیا
یہ کون پھر سے مجھے آندھیوں میں چھوڑ گیا
مہک رہا ہوں صبح و شام تیری یادوں میں
ترا وجود مجھے خوشبوؤں میں چھوڑ گیا
قدم قدم وہ مرے ساتھ ساتھ چلتا ہے
وہ اپنا آپ مرے راستوں میں چھوڑ گیا
تمام عمر مرے ساتھ وہ بھی جاگے …
Tumhain Khonay se Derta HooN
22 April 2007
اور کچھ نہیں بدلا
آج بعد مدت کے
میں نے اُس کو دیکھا ہے
وہ ذرا نہیں بدلی!
اب بھی اپنی آنکھوں میں
سو سوال رکھتی ہے
چھوٹی چھوٹی باتوں پہ
اب بھی کھل کے ہنستی ہے
اب بھی اُس کے لہجے میں
وہ ہی کھنکھناہٹ ہے
وہ ذرا نہیں بدلی!!
اب بھی اُس کی پلکوں کے
سائے گیلے رہتے ہیں
اب بھی …
Tumhain Khonay se Derta HooN
22 April 2007
کچھ اس طرح سے تمہارا خیال رکھا ہے
تمہارے واسطے خود کو سنبھال رکھا ہے
یوں لگ رہا ہے کہ بارش میں دھوپ نکلی ہے
خوشی میں اس طرح تم نے ملال رکھا ہے
کچھ اس لیے بھی مرا حرف حرف روشن ہے
ترے خیال نے دل کو اجال رکھا ہے
جو مجھ کو چھوڑ کے …
Tumhain Khonay se Derta HooN
22 April 2007
محبت کو بھلانا چاہیے تھا
مجھے جی کر دکھانا چاہیے تھا
…
Tumhain Khonay se Derta HooN
22 April 2007
میں خواب بہت دیکھتا ہوں
ایسے خواب!
جن میں کوئی دکھ‘ کوئی پریشانی نہیں ہوتی
جن میں وصل کے رستے ہجر کی وادی سے ہو کر نہیں گزرتے
جن میں محبت ہمیشہ ادھ کھلے پھول کی طرح خوبصورت
اور بچے کی مسکان کی طرح پاکیزہ ہوتی ہے
ایسے خواب!
جہاں ایک مسکراہٹ کی قیمت ہزار آنسو نہیں …