TumhaiN Mausam Bulaatay HaiN
21 April 2007
تمہیں کتنا یہ بولا تھا کہ میری زندگی میں اس طرح شامل نہیں ہونا جب آنکھیں صبح کو کھولوں پکاروں نام میں تیرا کبھی جب آئینہ دیکھوں تمہاراعکس میری آنکھ کی پتلی میں جم جائے خوشی مجھ کو ملے کوئی، تمہارا ساتھ میں ڈھونڈوں دکھوں میں بھی یہی چاہوں کہ …
TumhaiN Mausam Bulaatay HaiN
21 April 2007
مجھے اک نظم لکھنی ہے
کہیں سے لفظ مل جائیں
میں بے بس ہوں
کوئی تشبیہ نہ کوئی استعارہ ٹھیک لگتا ہے
کہاں سے لفظ وہ لاؤں جو دل کا حال کہہ پائیں
مجھے کتنی محبت ہے
مجھے کتنی عقیدت ہے
مجھے کتنی ضرورت ہے
میں بتلا دوں انہیں سب کچھ کہیں سے لفظ مل جائیں
مجھے ماں کی …
TumhaiN Mausam Bulaatay HaiN
21 April 2007
جان جاں کچھ کہو!
خامشی کی زباں سنتے سنتے مرے کان تھکنے لگے
جانتا ہوں محبت میں اظہار کب کھوکھلے حرف و معنی کا محتاج ہے
مانتا ہوں محبت وہ احساس ہے
جس میں خاموشیاں بات کرنے لگیں
نت نئے خواب آنکھوں میں سجنے لگیں
روح سننے لگے دھڑکنوںکی زباں
پھر بھی اب جان جاں
خامشی کی زباں …
TumhaiN Mausam Bulaatay HaiN
21 April 2007
درد سے گیت نکھارے ہیں تمہیں کیا معلوم
ہم نے یوں درد سنوارے ہیں تمہیں کیا معلوم
تم تو کہتے تھے کہ یہ ہجر کے دن تھوڑے ہیں
ہم نے کیسے یہ گزارے ہیں تمہیں کیا معلوم
تم نے کاٹی ہی کہاں ہے شب ہجراں ہمدم
اب یہ آنسو یا شرارے ہیں تمہیں کیا معلوم
تیرے …
TumhaiN Mausam Bulaatay HaiN
21 April 2007
خواب سجانے والی آنکھیں
پل بھرمیں بنجر ہوجائیں
رستہ تکتے تکتے تھک کر
امیدیں پتھر ہو جائیں
لب پر اگ آئے خاموشی
اور سینے میں حشر بپا ہو
لفظوں کی مالا کا دھاگا
بیچ سے جیسے ٹوٹ گیا ہو
بھولی بسی ساری باتیں
میں بھی شاید یاد بنا لوں
بھول کے اپنے دکھڑے سارے
ہونٹوں پہ مسکان سجا لوں
تم ڈھونڈو پھر …
TumhaiN Mausam Bulaatay HaiN
21 April 2007
مرے ہمدم، مرے ساتھی
تمہیں تو یاد ہی ہو گا
وہ دن کیا خاص تھا جب تم مرے جیون آئی تھیں
مری بے رنگ دنیا کو تمہاری مسکراہٹ نے ہزاروں رنگ بخشے تھے
اسے کیسے سجایا تھا تمہیں تو یاد ہی ہو گا
تمہیں میں نے بتایا تھا
کہ میں خوابوں میں رہتا ہوں مگر تم …
TumhaiN Mausam Bulaatay HaiN
21 April 2007
وہ شخص مجھ کو جیت کے ہارا ہے اور بس
اتنا ہی زندگی کا خسارہ ہے اور بس
کیسے کہوں کہ اُس کا ارادہ بدل گیا
سچ تو یہی ہے اُس نے پکارا ہے اور بس
دنیا کو اِس میں درد کی شدت کہاں ملے
آنکھوں سے ٹوٹتا ہوا تارا ہے اور بس
لفظوں میں دردِ …
TumhaiN Mausam Bulaatay HaiN
21 April 2007
جب وہ اِک شخص دسترس میں تھا
اس سے ملنا تمہارے بس میں تھا
اس کی آنکھیں تمہاری آنکھیں تھیں
اس کی باتیں تمہاری باتیں تھیں
اس کا چہرہ تمہارا چہرہ تھا
اس کے دل پر تمہارا پہرہ تھا
اس کی ہر سانس میں بسی تھیں تم
اس کے ہر لفظ میں کھلی تھیں تم
اس کے سپنوں …
TumhaiN Mausam Bulaatay HaiN
21 April 2007
مرے اندربہت دن سے
کہ جیسے جنگ جاری ہے
عجب بے اختیاری ہے
میں نہ چاہوں مگر پھر بھی تمہاری سوچ رہتی ہے
ہر اک موسم کی دستک سے تمہارا عکس بنتا ہے
کبھی بارش تمہارے شبنمی لہجے میں ڈھلتی ہے
کبھی سرما کی یہ راتیں!
تمہارے سرد ہاتھوں کا دہکتا لمس لگتی ہیں
کبھی پت جھڑ!
تمہارے پاؤں …
TumhaiN Mausam Bulaatay HaiN
21 April 2007
پیاس کے عالم میں کیا بولوں مجھ کو کیسا لگتا ہے
اک قطرہ بھی اس دم عاطفؔ دریا جیسا لگتا ہے
سُوکھے پتوں کی آہٹ اب بھی مجھ کو چونکاتی ہے
یاد ہے مجھ کو اُن پر چلنا تم کو اچھا لگتا ہے
میں تو اپنے آپ کو اکثر یہ سمجھاتا رہتا ہوں
تو سب …