غزل (نیرے آنسو میرے اندر گرتے ہیں)

Filed in Mujhay Tanha Nahin Kerna 0 comments

میرے آنسو میرے اندر گرتے ہیں
جیسے دریا بیچ سمندر گرتے ہیں

تیری یادیں وہ طوفان اٹھاتی ہیں
اک اک کر کے سارے منظر گرتے ہیں

کتنی لہریں شعروں میں ڈھل جاتی ہیں
سوچ کے پانی میںجب پتھر گرتے ہیں

ہم نے ٹھوکر کھا کر چلنا سیکھا ہے
اور ہیں وہ جو ٹھوکر کھا کر گرتے ہیں

رونے والے ! یہ تجھ کو معلوم نہیں
تیرے آنسو میرے دل پر گرتے ہیں

تم بس اس کا روگ لگا کر بیٹھے ہو
سپنوں کے یہ گھر تو اکثر گرتے ہیں

کات رہا ہے عاطف۔ کوئی آنکھوں میں
تکیے پر یہ خواب جو اکثر گرتے ہیں

Posted by admin   @   21 April 2007 0 comments

Share This Post

RSS Digg Twitter StumbleUpon Delicious Technorati

0 Comments

No comments yet. Be the first to leave a comment !
Leave a Comment

Previous Post
«
Next Post
»
Cloude designed by Webdesign In conjunction with Free MMORPG Games , CD Rates , Fat Burning Furnace Trial.