Main Shaam YadooN k JungalooN main

Filed in Mujhay Tanha Nahin Kerna 0 comments

میں شام یادوں کے جنگلوں میں گذارتا ہوں‘ کہ کچھ لکھوں گا یہ شہر سارا ہی سو چکا ہے میں جاگتا ہوں کہ کچھ لکھوں گا بہار رُت کے وہ خواب سارے جو میری پلکوں پہ آ سجے تھے! وہ خواب آنکھوں میں جل چکے ہیں میں جل رہا ہوں کہ کچھ لکھوں گا میں پچھلے موسم کی بارشوں کو پھر اپنی آنکھوں میں لا رہا ہوں! کہ اب کے ساون کی رُت میں‘ میں بھی یہ سوچتا ہوں کہ کچھ لکھوں گا عجیب رُت ہے جدائیوں کی‘ عذاب دن ہیں عذاب راتیں میں چند مہمل سے لفظ لکھ کر یہ سوچتا ہوں کہ کچھ لکھوں گا میں لفظ پلکوں سے چن رہا ہوں‘ میں خواب کاغذ پہ بُن رہا ہوں میں تیری آہٹ بھی سن رہا ہوں میں جانتا ہوں کہ کچھ لکھوں گا وہ سارے رستے کہ جن پہ ہم تم چلے تھے چاہت کے سنگ عاطفؔ میں اب جو اُن پر کبھی گیا تو یہ جانتا ہوں کہ کچھ لکھوں گا

Posted by admin   @   21 April 2007 0 comments

Share This Post

RSS Digg Twitter StumbleUpon Delicious Technorati

0 Comments

No comments yet. Be the first to leave a comment !
Leave a Comment

Previous Post
«
Next Post
»
Cloude designed by Webdesign In conjunction with Free MMORPG Games , CD Rates , Fat Burning Furnace Trial.