ہاتھ ہاتھوں میں جب تمہارا تھا
خواب‘ وہ زندگی سے پیارا تھا
میں نے دیکھے تھے خواب میں آنسو!
یہ بھی شاید کوئی اشارہ تھا
جو ابھی آسماں سے ٹوٹا ہے!!
وہ مرے بخت کا ستارہ تھا
تم مجھے غیر ہی سمجھ لیتے!
مجھ کو یہ بھی ستم گوارہ تھا
اک قدم بھی بڑھا نہیں کوئی
میں نے کس آس سے پکارا تھا
ڈر رہا تھا جو بھیڑ سے عاطفؔ
اس کو تنہائیوں نے مارا تھا
3:27 pm
Jo abhi aasman sey toota hai
wo meray bakht ka sitara tha
bohat aaala very unique one