کچھ اس طرح سے تمہارا خیال رکھا ہے
تمہارے واسطے خود کو سنبھال رکھا ہے
یوں لگ رہا ہے کہ بارش میں دھوپ نکلی ہے
خوشی میں اس طرح تم نے ملال رکھا ہے
کچھ اس لیے بھی مرا حرف حرف روشن ہے
ترے خیال نے دل کو اجال رکھا ہے
جو مجھ کو چھوڑ کے تقسیم ہو گیا سب میں
اسی کے واسطے خود کو سنبھال رکھا ہے
خود اپنے آپ میں رہنا اُسے قبول نہیں
مجھے بھی ذات سے باہر نکال رکھا ہے
یہ سوچتا ہوں اُسے کیا کہوں گا میں عاطف
کہ میرے پیار پہ اُس نے سوال رکھا ہے
aaap ki poetry ko parh k aisa hi lagta hai ese me apnay aap k baare me parhta hu… u r great as ur poetry
I agree with u Usman ye shakhs jitna acha Shaer hai na utnay achay insaan bhi hain
6:01 am
GREAT
MAIN PA KI POETRY SE BOHAT IMPRESS HUA HOON.
GOD BLESS YOU