مجھے تم کیا بتاؤ گی؟
کہ جب سے مجھ سے بچھڑی ہو
بہت بے چین رہتی ہو
مری باتیں ستاتی ہیں
مرے لفظوں کے جگنو!
ایک پل اوجھل نہیں ہوتے
مری نظمیں رُلاتی ہیں
مری آنکھیں جگاتی ہیں
مجھے تم کیا بتاؤ گی
کہ تم نے بارہا اُن اجنبی چہروں کے جنگل میں
مرے چہرے کو ڈھونڈا ہے
کسی مانوس لہجے …